چند باتین جن پر عمل کر کے آپ پر سکون زندگی گزار سکتے ہیں

چند باتین جن پر عمل کر کے آپ پر سکون زندگی گزار سکتے ہیں
چند باتیں جن پر عمل کر کے آپ پُر سکون زندگی گزار سکتے ہیں
چند باتیں جن پر عمل کر کے آپ پُر سکون زندگی گزار سکتے ہیں
لوگ اچھے یا بُرے نہیں لوگ عجیب ہوتے ہیں
ہم دوسروں کے بار ے میں اپنی رائے اس نظریے پر قائم کرتے ہیں کہ ان کا  ہمارے ساتھ رویہ کیسا ہے ، انسان کیسے دوسرو ں کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے ، اگر آپ کسی پالتو  بلی کو دیکھتے  ہیں  توآپ   کو لگتا ہے کہ آپ کو اس کے ساتھ کھیلنا چاہیے  یا ا س کو پیار کرنا چاہیے ، اسی طرح اگر آپ  کسی شیر کو اچانک سے دیکھ لیں  تو آپ کو لگے گا یہ آپ پر حملہ کر دے گا۔



اسی طرح لوگوں  کے بارے میں بھی   ہم رائے قائم کر تے ہیں، اگر آپ کے ساتھ کوئی اچھا برتاؤ کرتا ہے  یا آپ  کی مدد کرتا ہے تو  آپ اس کو  اچھا سمجھتے ہیں، اگر کوئی آپ سے بد تمیزی سے پیش آتا ہے  تو آپ اس کے بارے میں  رائے قائم کر لیتے ہیں  یہ ایک بُرا انسان ہے

ہم  میں سے بہت  سے لوگ  دوسروں کو سمجھنے میں ناکام ہوتے ہیں ، اگر ہم سمجھتے ہیں  کہ  فلاں بندہ بُرا ہے تو یہ ایک منفی رویہ  ہو گا، اگر ہم سو چتے ہیں کہ فلاں  بندہ  بہت اچھا ہے تو  یہ ایک مثبت  رویہ ہو گا۔

اس لیے ہمیں ان دونوں  کے درمیان کا راستہ اختیار  کرنا چاہیے  اور وہ ہے کہ لوگ عجیب ہوتے ہیں،  اگر کوئی  آپ کو بُرا سمجھتا ہےآپ کے ساتھ  اچھا برتاؤ نہیں کرتا  تو آپ سمجھیں  یہ عجیب آدمی ہے ۔

پر سکون زندگی گزارنے کے لیے ان سب باتوں کو لے کر آپ کو اپنا نظریہ بدلنا  ہو گا، لوگوں  کی جانب سے مسترد کیا جانا  ایک عام سی بات ہے اس کو زیادہ سیریس نہیں لینا چاہیے ۔ اس لیے اگلی بار  جب آپ کو مسترد کر دیا  جائے  تو یہ سوچ کر آگے  بڑھ جائیں  کہ لوگ تو عجیب ہوتے ہیں۔



ہر بات کے لیے اجازت لینا
بچپن سے ہی ہمیں ہر چیز  کے لیے دوسروں سے اجازت لینی پڑتی ہے  یعنی یہ عادت ہم میں اتنی رچ بس جاتی ہے کہ ہمیں اس سے پیچھا چھڑوانا  بہت مشکل  لگتا ہے ، سکول ،کالجز ، یونیورسٹی  کا تعلیمی نظام اس بات  کی ہی ایک مثال ہے  ہم اپنے  بارے میں  سب کچھ  جانتے ہوئے بھی اپنے ٹیچرز کی اجازت  چاہتے ہیں  اور ٹیچر کی اجازت  کے بغیر ہمیں کچھ  کرنے کی ٹرینئنگ نہیں دی جاتی ۔

اسی وجہ سے  ہمیں اپنی زندگی  میں یہ نہیں پتہ ہوتا کہ ہمیں کیا کرنا  ہے کیا نہیں ہم ہر معاملے میں  دوسروں  کی اجازت    کے طلب گار ہوتے ہیں ، اور ہم پھر آخر میں وہی کرتے ہیں  جو ہمیں  دوسروں  کی جانب سے کرنے  کو کہا جاتا ہے ۔ان سب کے چکروں میں ہم اپنی شخصیت  کھو بیٹھتے ہیں۔انسان  کو اپنے مقاصد اور اہداف خود سے طے کرنے چاہیں ۔

زندگی میں خوش ہونے اور مطمئن ہونے کا فرق
ہم اپنی  زندگی میں  کبھی  بھی خوش ہونے اور مطمئن ہونے کا فرق نہیں سمجھ  پاتے  مثال  کے طور  پر ہمیں فلم دیکھنے میں یا پھر کرکٹ  کھیلنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے لیکن ہمارا دل مطمئن نہیں ہوتا، ہم یہ نہیں سمجھتے کہ جب تک ہم مطمئن نہیں ہوں گے  ہمیں سکون  نہیں ملے گا۔



بزنس یا کسی  پروجیکٹ میں  ملنے والی کامیابی  سے جو خوشی  اور سکون  ملتا ہے وہ فلم دیکھنے یا پھر کرکٹ  کھیلنے سے نہیں مل سکتا ، اس لیے  ہمیں وقتی  خوشی  کے پیچھے بھاگنے  کی بجائے سکون  اور مطمئن   ہونے کا انتخاب کرنا چاہیے ۔
مقاصد حاصل کرنے کے لیے  کامیاب روٹین اپنائیں
جب ہم زندگی میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو موٹیوشن سے زیادہ  کامیاب  روٹین  پر عمل کرنے  کی ضرورت  ہوتی ہے ، مثال کے طور پر آپ  دس کلو  وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو  موٹیوشنل مواد سے زیادہ  وزن کم کرنے کی روٹین  پر عمل کرنےکی ضرورت  ہے ۔

وہ روٹین کسی تجربہ  کار بندے کی طرف سے ہو سکتی ہے ، اگر آپ  اس پر عمل  کرتے ہیں تو آپ کامیابی سے اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں، یہی بات  ہماری  زندگی میں ہر اس کام پر لاگو ہوتی ہے جس کو کرنا ہمیں مشکل  لگتا ہے اور ہم عملی طور پر کچھ  کرنے کی بجائے  باتوں تک محدود رہتے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments