انسان کی خواہشات او ر لالچ کبھی ختم نہیں ہوتا

انسان کی خواہشات او ر لالچ کبھی ختم نہیں ہوتا
انسان کی خواہشات او ر لالچ کبھی ختم نہیں ہوتا
انسان کی خواہشات او ر لالچ کبھی ختم نہیں ہوتا
ایک دفعہ کا ڈکر ہے بنی اسرائیل کے ایک شخص کی ملاقات ایک ایسے بزرگ سے  ہوئی جو جس پتھر پر انگلی رکھ دیتا تھا وہ سونے کا بن جاتا ،  وہ شخص اس بزرگ کے پیچھے پیچھے چل پڑا، بزرگ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔۔۔ہاں بتاؤ تمہیں کیا چاہیے؟  وہ بولا ، غریب ہوں اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس بھجوا دیا،  آپ ذرا مہربانی فرمادیں۔۔۔بزرگ نے سامنے موجود چٹان پر انگلی رکھی‘ بسم اللہ پڑھی اور وہ چٹان چند لمحوں میں سونے کی بن گئی ،  بزرگ نے چٹان کی طرف اشارہ کیا اور کہا "یہ لے جاؤ اور عیش کرو"۔
بزرگ اس کے بعد آگے چل پڑے،  تھوڑی دیر بعد انہیں محسوس ہوا وہ حاجت مند دوبارہ ان کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے بزرگ مڑے حیرت سے اس شخص  کی طرف دیکھا اور پھر پوچھا "تمہیں اب کیا چاہیے؟" حاجت مند آہستہ آواز میں بولا ، اگر تھوڑی سی مزید مہربانی ہو جاتی تو۔۔۔ اللہ کے اس برگزیدہ شخص نے تین چار چٹانوں کو انگلی سے چھو دیا،  وہ ساری سونے کی بن گئیں،  بزرگ نے وہ چٹانیں بھی اس کے حوالے کر دیں اور آگے چل پڑے،  وہ ابھی زیادہ دورنہیں گئے تھے کہ انہیں وہ حاجت مند ایک بار پھر اپنی طرف آتا ہوا محسوس ہوا،  وہ رکے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور پھر پوچھا  تمہیں اب کیاچاہیے؟ وہ شخص تھوڑا سا جھجکا اور بولا۔۔حضور کیا مجھے آپ کی یہ انگلی مل سکتی ہے؟۔۔۔
اس واقعہ سے ہمیں  یہ سبق ملتا ہے انسان کی خواہشات او ر لالچ کبھی ختم نہیں ہوتا، اس لیے خواہشات  اور لالچ  کو چھوڑ کر جائز طریقے سے ضروریات کو پورا کرنے کا سوچنا چاہیے ، دنیا داری اور مال کے لالچ کی بجائے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے  کی کوشش کرنی چاہیے۔


Post a Comment

0 Comments