تجارت اللہ کے ساتھ کریں غیبی خزانے سے منافع ملے گا

تجارت اللہ کے ساتھ کریں غیبی خزانے سے منافع ملے  گا
تجارت اللہ کے ساتھ کریں غیبی خزانے سے منافع ملے  گا
تجارت اللہ کے ساتھ کریں غیبی خزانے سے منافع ملے  گا 
ایک ایمان آفروز واقعہ،رمضان کا مہینہ تھاایک  گاہک نے دکان میں داخل ہو کر دکاندار سے پوچھا: کیلوں اور سیب کا کیا ریٹ ہے؟ دکاندار نے جواب دیا: کیلے  100 اور سیب 200۔اتنے میں ایک عورت بھی دکان میں داخل ہوئی اور کہا: مجھے ایک درجن کیلے چاہئیں، کیاریٹ ہے؟ دکاندار نے کہا: کیلے 50 روپےدرجن اور سیب 100روپے کلو۔ عورت نے الحمد للہ پڑھا۔ دکان میں پہلے سے موجود گاہک نے کھا جانے والی غضبناک نظروں سے دکاندار کو دیکھا،
اس سے پہلے کہ کچھ کہتا: دکاندار نے گاہک کو اشارہ  کرتے  ہوئے تھوڑا انتظار کرنے کو کہا۔عورت خریداری کرکے خوشی خوشی دکان سے نکلتے ہوئے بڑبڑائی: اللہ تیرا شکر ہے، میرے بچے انہیں کھا کر بہت خوش ہونگے۔عورت کے جانے کے بعد، دکاندار نے پہلے سے موجود گاہک کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا: اللہ گواہ ہے، میں نے تجھے کوئی دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی۔یہ عورت چار یتیم بچوں کی ماں ہے۔ کسی سے بھی کسی قسم کی مدد لینے کو تیار نہیں ہے۔ میں نے کئی بار کوشش کی ہے اور ہر بار ناکامی ہوئی ہے۔ اب مجھے یہی طریقہ سوجھا ہے کہ جب کبھی آئے تو اسے کم سے کم دام لگا کو چیز دیدوں۔
میں چاہتا ہوں کہ اس کا بھرم قائم رہے اور اسے لگے کہ وہ کسی کی محتاج نہیں ہے۔ میں یہ تجارت اللہ کے ساتھ کرتا ہوں اور اسی کی رضا و خوشنودی کا طالب ہوں۔دکاندار کہنے لگا: یہ عورت ہفتے میں ایک بار آتی ہے۔ اللہ گواہ ہے جس دن یہ آ جائے، اس دن میری سیل بڑھ جاتی ہے اور اللہ کے غیبی خزانے سے منافع ملتا ہے۔گاہک کی آنکھوں میں آنسو آ گئے،اس نے بڑھ کر دکاندار  کو گلے لگاتے  ہوئے کہا: بخدا لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں جو لذت ملتی ہے اسے وہی جان سکتا ہے جس نے آزمایا ہو۔


Post a Comment

0 Comments