زندگی میں وقت کی اہمیت zindagi mein waqt ki ahmiyat

زندگی میں وقت کی اہمیت  zindagi mein waqt ki ahmiyat
زندگی میں وقت کی اہمیت zindagi mein waqt ki ahmiyat
زندگی میں وقت کی اہمیت zindagi mein waqt ki ahmiyat
اگر آپ کی خواہش ہے کہ آپ اپنی زندگی کے تمام مقاصدحاصل کر لیں اور اپنی استعداد کے مطابق اپنی شخصیت کے علاوہ اپنے پیشے کی بھی تشکیل کر لیں تو پھر آپ کو ہر قیمت پر اپنے پاس دستیاب وقت کی منصوبہ بندی اپنے ہاتھوں میں لینا ہو گی۔ تمام ماہرین نفسیات اس بات  پر اتفاق کرتے ہیں  کہ خوشی و مسرت ، اعتماد اور اپنی ذاتی خوشحالی کے لیے "نظم و ضبط کا احساس" ایک بنیادی اور کلیدی عنصر ہے۔ مزید یہ کہ " نظم و ضبط کا احساس" کا حصول صرف اس صورت میں ممکن ہے جب آپ اپنے وقت کی بہترین تقسیم اور استعمال  پر مبنی صلاحیت میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں۔
آپ کے لیے خوشی کا پیغام یہ ہے کہ وقت کی بہترین تقسیم اور منصوبہ بندی ، دیگر مہارتوں کے مانند ایک ایسی مہارت ہے جسے آپ سیکھ اور سمجھ سکتے ہیں۔ قطع نظر  اس کے کہ ماضی میں آپ کی زندگی میں نظم وضبط کی کس قدر کمی موجود تھی۔۔۔یا آپ اپنے کام کو کل پر ٹالنے کی عادت میں کیسی بُری طرح مبتلا تھے یا غیر ضروری کاموں کی طرف بہت زیادہ توجہ دیتے تھے۔۔۔آپ اپنے اس معمول میں تبدیلی رونما کر سکتے ہیں۔ آپ اپنے ہہم پیشہ ساتھیوں میں سے سب سے زیادہ موثر، مستعد اور تعمیری شخص بن سکتے ہیں۔ بشرطیکہ آپ نے اپنے ساتھیوں کا مشاہدہ کیا ہو کہ وہ کس طرح پریشانیوں اور الجھنوں سے نکل کر کامیابیوں کے گلزاروں میں داخل ہوتے۔۔آپ بھی سیکھنے کے مسلسل عمل اور مشق کے ذریعے کامیاب ترین انسان بن سکتے ہیں۔
درست اور مثبت سرگرمیاں
ایک دفعہ ایک طالب علم نے ایک فلسفی سے پوچھا " مجھے کیسے معلوم ہو جائے کہ کون سا کام میرے لیے درست اور صحیح ہے؟ " فلسفی نے جواب دیا" اگر تم اپنا مقصد بتاؤ تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ تمہارے لیے کون سا کام درست اور صحیح ہے"۔
یہ ایک اہم مثال ہے اس لیے اچھے یا غلط کام، اہم یا کم اہم ضرورت اعٰلی سطح یا کم سطح ترجیح کا انحصار سب سے  پہلے اس امر پر ہے کہ آپ کا مطلوبہ ہدف اور مقصد کیا ہے۔۔۔ اس کے بعد آپ اپنی تمام مصروفیات اور سرگرمیوں کو اہم ترین اور کم اہم میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
ایک اہم ترین سرگرمی وہ ہے جس کے ذریعےآپ  نہایت تیزی کے ساتھ اور بہتر انداز میں اپنے مطلوبہ ہدف کی طرف پیش رفت کرتے ہیں۔  اس کے برعکس کم اہم سرگرمیاں آپ کے مقصد کے حصول کے لیے مفید ثابت نہیں ہوتیں۔
ذہانت کا کردار
جب کامیابی کی وجہ کے متعلق ہزاروں افراد کےبارے میں ایک جائزہ مرتب کیا گیا تو پھر " ذہانت کی اہمیت" پر مبنی عنصر سب سے زیادہ سامنے آیا ۔ لیکن جب محققین نے لفظ ذہانت کے معنی کے مطلق  استفسار کیا تو  انہیں وصول ہونے والا جواب بہت ہی دلچسپ تھا۔ کیونکہ ذہانت کو نہ تو ذہنی استعداد سمجھا گیا اورنہ ہی اسکول میں کامیابی کامعیار بلکہ ذہانت کی تعریف کام کرنے کے انداز کے طور پر کی گئی۔
لٰہذا اب کا م کرنے کے بہترین انداز کی تعریف کیا  ہے ؟" کام کرنے کا بہترین انداز" آپ کی سرگرمیاں اور امور ہیں جنہیں آپ اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے مستقل اور تواتر کے ساتھ انجام دے سکتے  ہیں۔
اگر آپ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بہترین کوشش کرتے ہیں تو پھر آپ ذہین ہیں۔ اگر آپ اپنی بھر پور قوت سے کوشش نہیں کرتے  تو پھر  کامیابی کی صورت میں بھی آپ ذہین  نہیں ہیں۔آپ جب بھی اپنے مطلوبہ مقصد کے حصول کے لیے کوئی سرگرمی اور مصروفیت  اپناتے ہیں تو پھر آپ کا عمل ذہانت پر مبنی ہوتا جو آپ کو آ پ کے مطلوبہ مقاصد کے حصول سے دور لے جاتا ہے۔
آپ کا وہ فعل احمقانہ پن سے کم نہیں جو آپ کو آپ کے مطوبہ اہداف کے حصول کے لیے مددگار اور مفید ثابت نہیں ہوتا۔ یہ دنیا ایسے افراد سے بھری پڑی ہے جو ہر روز احمقانہ پن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے احمقانہ پن کے باعث ان  کی زندگیوں پر منفی  اثرات پڑیں گے۔
لمبے عرصے کیلئے اہداف کا تعین
اپنے وقت اور وسائل کی بہترین تقسیم اور استعمال اس وقت ہوتا ہے جب آپ واضح طور پر اپنے مطلوبہ اہداف کا تعین کر لیتے ہیں۔ آپ اپنی مصروفیات میں سے وقت مختص کر کے اپنے سامنے کاغذ اور قلم رکھتے ہیں اور تمام سرگرمیوں اور امور کا اندراج کرتے ہیں جو آپ کے مقاصد زندگی کے حصول کے لیے درکار نہیں۔اس ضمن میں آپ مالی کامیابی کے بارے میں اپنے طویل المدتی اہداف کا انتخاب کرتے ہیں۔ جب آپ کے ذہن  میں  آپ کے مطلوبہ اہداف و مقاصد کے ضمن میں کوئی چیز غیر واضح نہیں رہتی تو پھر آپ اپنے لیے کامیابی پر مشتمل تمام مراحل کے بارے میں منصوبہ بندی کر لتے ہیں۔ کہ متعدد مراحل کب اور کس وقت تک پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔
ضروری اور غیر ضروری  کاموں  میں فرق
اپنے وقت کے بہترین استعمال اور تقسیم کے مراحلے کے دوران آپ کو فیصلہ کر لینا چاہیے کہ آپ کے لیے ضروری اور غیر ضروری امور اور سرگرمیاں کون سی ہیں۔ضروری کام وہ ہیں جو فوری طور پر عملی کاروائی  چاہتے ہیں۔ اکثر لوگ اپنے نہایت ضروری کاموں کی انجام دہی کے لیے زیادہ تر وقت  موبائل پر کال ، میسج  کے ذریعے اپنے افسر اور گاہکوں کے تقاضوں کا جواب دینے میں صرف کر دیتے ہیں۔
اس کے برعکس ضروری کام وہ ہیں جو آپ کی مستقبل کی پیشہ ورانہ زندگی کے لیے مفید اور مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کام منصوبہ بندی انتظام کاری ، جائزہ اور تجزیہ ، اپنے متوقع گاہکوں کی تلاش اور اپنے لیے ترجیحات کے تعین پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ایسے کام بھی ہوتے ہیں جو ضروری تو ہیں لیکن اہم نہیں ہیں۔مثال کے طور پر موبائل کے ذریعے پیغام رسانی وغیرہ ۔چونکہ یہ سرگرمیاں اوقات کار میں رونما ہوتی ہیں اس لیے یہ کام عام طور پر ضروری کاموں سے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں بہر حال فرق صرف یہ ہے کہ یہ کام نتیجہ خیز نہیں ثابت ہوتے۔
مختلف سرگرمیوں اور امور کی چوتھی قسم وہ ہے جو نہ تو نہایت ضروری ہیں اور نہ ہی بہت زیادہ اہم ہیں۔مثلاََ کام کے دوران اخبار کا مطالعہ یا پھر دوپہر کے کھانے کے لیے زیادہ وقت لگانا۔ اس قسم کی سرگرمیاں آپ کے پیشے کے لیے  نقصان دہ ہیں کیونکہ ان کے ذریعے آپ کا وقت ٖصرف ہو جاتا ہے جس کے استعمال کے باعث آپ وہ سرگرمیاں اور امور انجام دے سکتے تھےجن کے لیے آپ کو پیسے ملتے ہیں اور جن پر آپ کے مستقبل کا انحصار ہے۔
نتائج کو پیش نظر رکھیئے
وہ کام یا سرگرمی جو معمولی یا چند نتائج    پر مشتمل ہوتی ہے اہم نہیں ہوتی ۔ اس لیے اپنے اہداف کی تکمیل کے حوالے سے آپ کی منصوبہ بندی کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آپ زیادہ سے زیادہ ان سرگرمیوں اور امور میں مصروف ہوں جن کے نہایت ہی مثبت اور تعمیری نتائج آپ کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی پر مرتب ہوں۔
80/20کا اصول اپنائیں
اپنے کل کے دن کے لیے کاموں اور سرگرمیوں کی فہرست تیار کر لینے کے بعد اس فہرست کا دوبارہ جائزہ لیجیے اور عملی کاروائی کے  آغاز سے قبل 80/20کا اصول اپنائیے۔
اس اصول کے تحت  20فیصد سرگرمیاں، آپ کی 80فیصد سرگرمیوں کی قدر کے برابر ہیں۔ اگر آپ کی زندگی میں دس امور ایسے ہیں جن کی آپ نے تکمیل کرنا ہے تو پھر ان میں سے دو امور سے کہیں زیادہ قابلَ قدر ہوں گے۔ دس میں سے دو امور کی تکمیل کے نتائج بقایا اسی فیصد امور کی تکمیل کے نتائج سے زیادہ قابل اہمیت ہوں گے۔
بعض اوقات 80/20کا اصول  90/10کے اصول میں تبدیل ہو جاتا ہے کیونکہ عام طور پر دس امو ر پر مشتمل فہرست میں سے محض ایک کام بقایا نو کاموں کی نسبت زیادہ اہم ہو گا۔ بد قسمتی سے یہ وہ واحد کام ہے جسے آپ عام طور پر کل پر اٹھا رکھنے کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں۔
غیر ضروری کاموں کو ملتوی رکھیں
جب آپ اپنے لیے قابل ترجیح 20فیصد امور کا انتخاب کر لیتے ہیں تو پھر آپ دیگر وہ کام ملتوی کر سکتے ہیں جو قابل التوا ہوں۔ چونکہ آپ ہر کام ، انجام نہیں دے سکتے ۔ لٰہذا آپ کو کوئی نہ کوئی کام قابلَ التوا کاموں کی فہرست میں شامل کرنا ہو گا۔ اس مرحلے پر صرف ایک ہی سوال پیدا ہوتا ہے ۔۔آپ کی نظر میں کون سے کام قبل التوا ہیں۔
اس سوال کاجواب نہایت ہی سادہ ہے بقایا 80فیصد کاموں کا التوا آپ کے مطلوبہ اہداف و مقاصد پر بہت کم اثر انداز ہو گا ۔ اس  لیے اپنا زیادہ وقت اور توانائی ان ایک دو کاموں پر صرف کیجئے جو آپ کے لیے بہت زیادہ فرق کا باعث بن سکتے ہیں۔ آپ کو چائیے کہ ان امور اور سرگرمیوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کیجئے جن کی کامیاب تکمیل آپ کے لیے عظیم کامیابی کا باعث ہو۔۔۔





Post a Comment

0 Comments