ہماری زندگی میں پریشانی کی وجوہات

ہماری زندگی میں پریشانی کی وجوہات
ہماری زندگی میں پریشانی کی وجوہات
ہماری زندگی میں پریشانی کی وجوہات
اگر آپ زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو " آج کی دنیا" میں جینا سیکھیں اور گزرے ہوئے  دنوں کوبھول جائیں۔ہمیں اپنی زندگی میں سے ماضی کو باہر پھینک کر دروازہ بند کر لینا چائیے ۔۔۔ماضی کی طرح مستقبل کو بھی دروازے سے باہر دھکیل دیں۔ آنے والے کل کا آج کوئی وجود نہیں۔ " آپ کی تمام جدوجہد کا مرکز آج کا دن ہونا چائیے۔ جو شخص کل کی فکر کرتا  ہے وہ اپنی توانائی برباد کرتا ہے اور اپنے ذہن کو طرح طرح کی اذیتوں سے دوچار کرتا ہے۔

ان ساری باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کل کی بالکل بھی فکر نہ کریں۔۔۔ مطلب ہے کہ کل کی تیاری کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے  کہ ہم آج کے کاموں کو پوری محنت سے سر انجام دیں۔اپنے مستقل کے لیے تیار ہونے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔کل کا خیال ضرور  رکھنا چاہیے۔ مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے تجویزیں سوچنی چاہئیں اور کام شروع کرنا چاہئے۔۔لیکن طبعیت کو کل کے اندیشے میں غمگین اور افسردہ نہیں کرنا چاہئے اور آج کی فکروں کو آج تک ہی محدود رکھنا چاہئے۔

جب تک ہم   پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں تو کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ غم اور فکر میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو یکسو نہیں کر سکتا ۔ اُس کے ذہن میں انتشار رہتا ہے۔ قوتِ فیصلہ ختم ہو جاتی ہے اور وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن جب آدمی یہ اندازہ لگا  لیتا ہے کہ اُسے زیادہ سے زیادہ کتنا نقصان ہو سکتا ہے اور وہ خود کو یہ نقصان برداشت کرنے کے لیے تیار کر لیتا ہے اور صبر و شُکر  کرتا  ہے تو ذہنی ہیجان ختم ہو جاتا ہے اور وہ  اپنے مسئلے پر اچھی طرح غور  کر سکتا ہے۔

مشہور چینی مصنف نے کہا تھا" حقیقی سکونِ قلب شدید ترین نقصان پر رضا مند ہو جانے سے حاصل ہوتا ہے"۔ لیکن ہم میں سے  زیادہ لوگ کیا کرتے ہیں ۔۔۔ وہ اپنے نقصان کو منظور نہیں کرتے اور اس کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنے دماغ کو مفلوج کر لیتے ہیں اور ذہنی طور پر اس قابل نہیں رہتے کہ اس نقصان کو کم کرنے کی کوئی تدبیر سوچ سکیں۔ جو کچھ ڈوبنے سے بچ سکتا ہے  ہم لوگ اسے بھی پانی سے نکالنا منظور نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنے مقدر کو پھر سے تعمیر کرنے کی بجائے اپنے تلخ تجربے سے ہی زور آزمائی کرتے رہتے ہیں اور مختلف قسم کی نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

ایک ایساعمل جو آپ کے پاس دولت کے انبار لگا دے گا


Post a Comment

0 Comments