ہماری زندگی میں پریشانی کی وجوہات

ہماری زندگی میں پریشانی کی وجوہات
ہماری زندگی میں پریشانی کی وجوہات
ہماری زندگی میں پریشانی کی وجوہات
اگر آپ زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو " آج کی دنیا" میں جینا سیکھیں اور گزرے ہوئے  دنوں کوبھول جائیں۔ہمیں اپنی زندگی میں سے ماضی کو باہر پھینک کر دروازہ بند کر لینا چائیے ۔۔۔ماضی کی طرح مستقبل کو بھی دروازے سے باہر دھکیل دیں۔ آنے والے کل کا آج کوئی وجود نہیں۔ " آپ کی تمام جدوجہد کا مرکز آج کا دن ہونا چائیے۔ جو شخص کل کی فکر کرتا  ہے وہ اپنی توانائی برباد کرتا ہے اور اپنے ذہن کو طرح طرح کی اذیتوں سے دوچار کرتا ہے۔
ان ساری باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کل کی بالکل بھی فکر نہ کریں۔۔۔ مطلب ہے کہ کل کی تیاری کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے  کہ ہم آج کے کاموں کو پوری محنت سے سر انجام دیں۔اپنے مستقل کے لیے تیار ہونے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔کل کا خیال ضرور  رکھنا چاہیے۔ مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے تجویزیں سوچنی چاہئیں اور کام شروع کرنا چاہئے۔۔لیکن طبعیت کو کل کے اندیشے میں غمگین اور افسردہ نہیں کرنا چاہئے اور آج کی فکروں کو آج تک ہی محدود رکھنا چاہئے۔
اگر ہم اچھے طریقے سے غور و فکر کریں گے تو ہمارے کام  سنورنا شورع ہو جاتے ہیں اور بُرے غور و فکر سے بے چینی پیدا ہوتی ہے۔۔جس سے ہماری صحت پر بُرا اثر پڑتا ہے۔
ہم جب صبح کو کام شروع کرتے ہیں تو سینکڑوں کام ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان سب کاموں کو ایک ساتھ کرنا چاہیں تو یقیناََ پاگل ہو جائیں۔۔اسی طرح اگر شیشے کی بوتل میں کنکریاں ڈالنا چاہیں گے تو بوتل ٹوٹ جائے گی۔۔یہی اصول ہماری روز مرہ کی زندگی کے بارے میں بھی اختیار کرنا چاہئے یعنی ایک وقت میں ایک کام کریں۔
اسی لیے کہا جاتا ہے " عقل مند کے لیے ہر روز نئی زندگی ہے"۔ ہماری زندگی بھی عجیب و غریب ہے ۔ جب ہم بچے ہوتے ہیں تو سوچتے ہیں بڑے ہو جائیں گے تو یہ کریں گے۔۔جب تھوڑے بڑے ہو جاتے ہیں تو سوچتے ہیں جوان ہو جائیں گے تو یہ کریں گے ۔۔ جب جوان ہو جاتے ہیں تو سوچتے ہیں دولت کمائیں گے اور شادی کریں گے لیکن جب شادی ہو جاتی ہے اور دولت کما لی جاتی ہے  ۔۔تو سوچتے ہیں بڑھاپے میں آرام کی زندگی گزاریں  گے۔۔۔ جب زندگی میں بڑھاپا آتا ہے  تو جسمانی اعضاء جواب دے چکے ہوتے ہیں۔۔۔اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راستے میں ہم سب کچھ دیکھنا بھول گئے اور راستہ ختم ہو گیا ۔ جب زندگی گزر چُکی ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر روز بلکہ ہر گھنٹے کے ایک ایک منٹ میں زندگی بسر کرنے کو زندگی کہتے ہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ فکر اور پریشانی آپ کے قریب نہ آئیں تو آپ  "ماضی اور مستقبل کو دروازے سے باہر نکال دیں اور آج کی دنیا میں رہیں"۔
جب تک ہم   پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں تو کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ غم اور فکر میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو یکسو نہیں کر سکتا ۔ اُس کے ذہن میں انتشار رہتا ہے۔ قوتِ فیصلہ ختم ہو جاتی ہے اور وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن جب آدمی یہ اندازہ لگا  لیتا ہے کہ اُسے زیادہ سے زیادہ کتنا نقصان ہو سکتا ہے اور وہ خود کو یہ نقصان برداشت کرنے کے لیے تیار کر لیتا ہے اور صبر و شُکر  کرتا  ہے تو ذہنی ہیجان ختم ہو جاتا ہے اور وہ  اپنے مسئلے پر اچھی طرح غور  کر سکتا ہے۔
مشہور چینی مصنف نے کہا تھا" حقیقی سکونِ قلب شدید ترین نقصان پر رضا مند ہو جانے سے حاصل ہوتا ہے"۔ لیکن ہم میں سے  زیادہ لوگ کیا کرتے ہیں ۔۔۔ وہ اپنے نقصان کو منظور نہیں کرتے اور اس کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنے دماغ کو مفلوج کر لیتے ہیں اور ذہنی طور پر اس قابل نہیں رہتے کہ اس نقصان کو کم کرنے کی کوئی تدبیر سوچ سکیں۔ جو کچھ ڈوبنے سے بچ سکتا ہے  ہم لوگ اسے بھی پانی سے نکالنا منظور نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنے مقدر کو پھر سے تعمیر کرنے کی بجائے اپنے تلخ تجربے سے ہی زور آزمائی کرتے رہتے ہیں اور مختلف قسم کی نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔


Post a Comment

0 Comments