حجاج بن یوسف کی زندگی Hajaj bin yousuf ki zindgi

حجاج بن یوسف کی زندگی Hajaj bin yousuf ki zindgi 
حجاج بن یوسف کی زندگی
حجاج بن یوسف کی زندگی Hajaj bin yousuf ki zindgi 
واقعہ کربلا ہوچکا تھا اورتاریخ کے اِس المناک باب نے بنو امیہ کی بنیادیں ہلاکر رکھ دیں تھیں، جگہ جگہ شورش اور بغاوت برپا تھی اور اقتدار بنو امیہ کے ہاتھوں سے مٹھی میں بند ریت کی طرح پھسلتا چلا جارہا تھا۔ بغاوتوں اور شورشوں کے اِس اژدہام میں بنو امیہ کو ایک ایسے شخص کی خدمات میسر آئیں، جس کی صلاحیتوں سے صرف بنو امیہ کو ہی فائدہ نہ ہوا بلکہ تیزی سے پھیلتی اسلامی حکومت پر بھی اسکے گہرے نقوش مرتب ہوئے۔ یہ شخص طائف کے مشہور قبیلہ بنو ثقیف میں پیدا ہوا۔
 ابتداء میں مدرس کا پیشہ اختیار کیا، لیکن مطمئن نہ ہوا تو طائف چھوڑ کر دمشق کا رُخ کرلیا۔ دمشق میں اُسے خلیفہ کے وزیر روح بن زنباع کی جاگیر کی بطور کوتوال دیکھ بھال کی ملازمت مل گئی، یہی وہ ملازمت تھی جس میں اُسے اپنی خداداد صلاحیتوں کو آزمانے اور کچھ کرکے دکھانے کا موقع ملا۔ جلد ہی اس کی صلاحیتوں کا چرچاہر طرف ہونے لگا۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان اپنی فوج کی سستی اور کاہلی سے سخت نالاں تھا، اُسے فوجیوں کیلئے محتسب مقرر کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وزیر روح بن زنباع نے اس عہدے کیلئے اپنے اِس کوتوال کا نام پیش کردیا۔ محتسب بننے کے بعد تھوڑے ہی عرصے میں اُس نے پولیس اور فوج کو تیر کی طرح سیدھا کردیا۔ خلیفہ عبدالملک اُس کی صلاحیتوں کا معترف ہوچکا تھا، لہٰذا اہل خراسان ، کوفہ اور بصرہ کی باغیانہ روش کو ختم کرنے کے لیے اُسے گورنر مقرر کردیا گیا۔
گورنر مقرر ہونے کے بعد اُس نے صرف بارہ آدمی ساتھ لیے اور ایک ہزار میل کا فاصلہ طے کرکے بالکل غیر متوقع طور پر کوفہ پہنچ گیا۔ کوفہ میں داخلہ کے وقت اُس نے پہچان سے بچنے کیلئے ڈھاٹے سے چہرہ چھپا رکھا تھا۔وہ مسجد پہنچا تو لوگ شرارت پر آمادہ تھے۔لوگ اِس نئے گورنر کا استقبال کرنے اور اُسے مزا چکھانے کیلئے کنکر اور پتھر ہمراہ لائے تھے۔ اُس نے ممبر پر چڑھ کر نقاب الٹا اور گرجدار آواز میں بولا’’لوگو سنو اور ہوش و حواس درست کرکے سنو! تمہاری شورش پسندی اور شرارتوں سے تنگ آکر امیرالمومنین نے اس بار اپنے ترکش کا سب سے سخت تیر تم پر چلایا ہے۔
 تم منافق ، مفسد اور باغی ہو ، تم نت نئی شرارتیں کرتے اور ہر آنیوالے حاکم سے بغاوت کرنے کے عادی ہو۔ سیدھے ہو جاؤ اور اطاعت کے لیے سر جھکا دو،میں دیکھتا ہوںکہ نظریں اٹھی ہوئی ہیں، گردنیں اونچی ہو رہی ہیں، سروں کی فصل پک چکی ہے اور کٹائی کا وقت آن پہنچا ہے۔ میری نظر وہ خون دیکھ رہی ہے جو پگڑیوں اور داڑھیوں کے درمیان بہہ رہا ہے‘‘۔اُس کا نام اور خطاب سن کر دہشت سے لوگوں کے ہاتھوں میں پکڑے پتھر اور کنکر چھوٹ گئے اوروہ اپنے سر پیٹنے لگے۔ امن قائم کرنے اور بغاوتوں اور شورشوں کو دبانے میں مشہور یہ سخت گیر منتظم کوئی اور نہیں بلکہ ابو محمد حجاج بن یوسف بن حکم بن ابو عقیل ثقفی تھا۔
حجاج بن یوسف کی طوفانی زندگی کا پہلا دور وہ تھا جب وہ عبدالملک کے عہدِ حکومت میں سرکشوں کو مغلوب کرنے کے لیے اٹھا اور عراق اور عرب پر آندھی اور طوفان بن کر چھا گیا لیکن اس دور میں اس کی تلوار ایک اندھے کی لاٹھی تھی جو حق او ر نا حق میں تمیز نہ کر سکی۔ دوسرا دور وہ تھا جب عبدالملک کی جگہ اس کا بیٹا ولید مسندِ خلافت پر بیٹھ چکا تھا۔
عراق اور عرب کی خانہ جنگیاں ختم ہو چکی تھیں اور مسلمان ایک نئے جذبے کے ماتحت منظم اور مستحکم ہو کر ترکستان اور افریقہ کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے ۔  اپنے باپ کی طرح ولید نے حجاج بن یوسف کو اندرونی اور بیرونی معملات میں سیاہ و سفید کا مالک بنا رکھا تھالیکن ایک مسلمان مئورخ کی نگاہ میں حجاج نے ولید کی  جوخدمات انجام دیں، وہ عبدالملک کی خدمات سے بہت مختلف تھیں۔
عبدالملک کے دور میں حجاج بن یوسف کی تمام تر جدوجہد عرب اورعراق تک محدود رہی اور اس کی خون آشام تلوار نے جہاں عبدالملک کی حکومت کو مضبوط اورر مستحکم کیا، وہاں اس کے دامن کو بے شمار بے گناہوں کے خون کے چھینٹوں سے داغدار بھی کیا  لیکن  ولید کا عہد مسلمانوں کے لیے بسبتاََ امن کا زمانہ تھااور حجاج بن یوسف اپنی زندگی کے باقی چند سال مشرق و مغرب میں مسلمانوں کی فتوحات کی راہیں صاف کرنے میں صرف کر رہا تھا۔
جب ہم حجاج بن یوسف کی کتابِ زندگی کےآخری اوراق پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ قدرت سندھ، ترکستان اور سپین میں مسلمانوں کی سطوت کے جھنڈے لہرانے کے لیے اس شخص کو منتخب کرتی ہے جو آج سے چند سال قبل مکہ کا محاصرہ کر رہا تھا۔ وہ آنکھیں جنھوں نے عبداللہ زبیرؓ کو اپنے سامنے قتل ہوتے دیکھ کر ترس نا کھایا، سندھ میں ایک مسلمان لڑکی کی مصیبت کا حال سن کر پرُ  نم ہو جاتی ہیں۔
تاریخ ہمارے سامنے ایک اور اہم سوال پیش کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ عرب اور عراق کے مسلمان حجاج بن یوسف عہد کے آخری دنوں میں بھی اس سے نالاں تھے اور ولیدبن عبدالملک کو بھی اچھی نظروں سے نا دیکھتے تھے پھر کیا وجہ تھی کہ جب سندھ اور ترکستان کی طرف پیش قدمی شروع ہوئی تو محاز پر شامی مسلمانوں کے مقابلے میں عربوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ قیادت کی خامیوں کے باوجود جمہور مسلمانوں کا انفرادی کردار اسی طرح بلند تھا۔ حجاج بن یوسف سے نفرت ان کی قومی حمیت (غیرت)کو دبا نا سکی۔۔۔مسلمانوں نے جب سنا کہ ان کے بھائی افریقہ اور ترکستان کی غیر اسلامی طاقتوں سےجنگ لڑ رہے  ہیں تو وہ پرانی رنجشیں بھول کر ان کے ساتھ جا شامل ہوئے۔
اس لیے ولیدبن عبدالملک کے عہد کی شاندار فتوحات کا سہرا حجاج بن یوسف اور ولیدبن عبدالملک کے سر نہیں بلکہ ان مسلمانوں کے سر ہے جن کے ایثار اور خلوص میں مسلم امہ کی ترقی اور عروج کا راز پنہاں ہے۔

Post a Comment

0 Comments