چند عادات جو آپ کی ترقی میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہیں

چند عادات جو آپ کی ترقی میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہیں
چند عادات جو آپ کی ترقی میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہیں

چار عادات جو آپ کی ترقی میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہیں
اپنی زندگی میں ہر انسان  یہ بات ضرور سوچتا ہے کہ وہ جتنی کامیابی اور ترقی حاصل کرنا چاہتا تھا اتنی حاصل نہیں کر سکا  ہر انسان  اپنی طاقت اور صلاحیت کے حساب سے محنت کرتا ہے لیکن اس کے باوجود چند لوگ ترقی نہیں کر پاتےاگر آپ کو بھی ایسا لگتا ہے کہ آپ نےمحنت اور پوری طاقت کے ساتھ کام کرنے کے  باوجود کامیابی حاصل نہیں کی تو آپ کو اس کے پیچھے آپ کی کچھ بری عادات ملیں گی جن سے آپ خود بھی نہ واقف ہوں گے۔


یہ چند بری عادات آپ کی ناکامی کی بڑی وجہ ہوسکتی ہیں کامیابی حاصل کرنے کے لیے آپ کے پاس اچھی مہارت،  تکنیکی صلاحیت ، جدوجہد،  اور محنت کے ساتھ آپ کو اپنےبارے میں بھی علم ہونا چاہیے آپ کیا ہیں آپ کی عادات کیا ہیں آپ میں کوئی ایسی عادت تو نہیں جو آپ کی کامیابی میں رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے۔کچھ عادات بہت مضبوط ہوتی ہیں آج انہی چند عادات کے بارے میں بات کرتے ہیں جو آپ کو کامیاب ہونے سے روکتی ہیں ۔

میں ایک پرفیکٹ انسان ہوں
یہ ایک بری عادت ہے جو انسان کو آگے بڑھنے سے اور کامیابی حاصل کرنے سےروک سکتی ہے جب کوئی انسان ہر چیز پرفیکٹ چاہتا ہے تو اس پر بہت زیادہ تنائو پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے آپکی صلاحیتیں دب کر رہ جاتی ہیں ۔ جب آپ کسی کام کو شروع کرتے ہیں  اور آپ کے دما غ میں یہ بات ہوتی ہےکہ میں کام کروں  گا اگر کام ٹھیک نہ ہوا یا میرے معیار پرپورا نہ اترا یا پھر لوگ آپ کے کام کے بارے میں کیا کہیں گے یہ سوچ آپ کو کبھی بھی کام شروع کرنے نہیں دے گی ۔پرفیکٹ کام کرنے کے چکر میں آپ کا بہت سا وقت ضائع ہو جاتا ہے اور اکثر آپ کا کام بھی نا مکمل رہ جاتا ہے دنیا میں کوئی بھی چیز پرفیکٹ نہیں ہوتی اس لیے پرفیکٹ کے چکرمیں اپنا وقت اور صلاحیتیں ضائع مت کریں۔



لفظ Sorry کا بہت زیادہ استعمال
ہمیں یہ بات سیکھائی جاتی ہے اگر آپ سے کوئی غلطی ہو جائے تو معافی مانگ لی جائے لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کب، کہاں اور کس سے  معافی مانگنی چاہیےآپ  کو کچھ لوگ ایسے بھی ملیں گے جنہیں دیکھ کر آپ کو لگے گا ان کا معافی مانگنے کے علاوہ  کوئی اور کام نہیں  کسی  سے معافی مانگنا بظاہر ایک معمولی بات لگتی ہے لیکن اگر آپ ہر چھوٹی اور معمولی بات پر معافی مانگیں گے تو یہ آپ کی عادت بن جائے گی اور آپ سوچ بھی نہیں سکتے یہ چھوٹا سا لفظ آپ کی روز مرہ کی زندگی کو کتنا متاثر کرے گا ۔آپ جتنا زیادہ لوگوں سے معافی مانگیں گے آپ میں سے خود اعتمادی کم ہوتی جائے گی یہ عادت آپ کی صاحیتوں کو دبا دے گی اور آ پ کو آگے بڑھنے سے روک لے گی ۔اگر آپ ہر کام میں اپنی غطی تلاش کریں گے  تو دوسرے لو گ بھی اپنی غلطیاں آپ کے کھاتے میں ڈال دیں گے

ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنا اچھی بات ہے اس کے بہت سے فائدے ہیں لگتا بھی یہی ہے اگر ایک آدمی ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کر رہا ہے تو یہ ایک اچھی بات ہے ۔ حال ہی میں ہونی والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے  انسانی دماغ اگر ایک وقت میں ایک ہی کام کرے تو ہم اس کام کو زیادہ بہتر اور اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں ہمارے کام کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔جب ہم ایک وقت میں زیادہ کام کرتے ہیں تو اس سے ہمارے دماغ کی شارٹ ٹرم میموری اور لانگ ٹرم میموری پر بہت برا اثر پڑتا ہے جس سے ہماری یاداشت بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔



کوشش کرتے رہنا
ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک آرام دہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور گزار بھی رہے ہوتے ہیں یہ لوگ محنتی ہوتے ہیں لیکن اپنی زندگی میں تبدیلی نہیں چاہتے یہ لوگ اگر ایک نوکری کر رہے ہوتے ہیں تو یہ اس میں خوش ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ نئے مواقعے تلاش نہیں کرتے اگر انہیں کوئی نئی نوکری مل رہی ہو تو یہ صاف انکار کر دیتے ہیں ان کے بہانے بھی کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں مجھے اس کام کا تجربہ نہیں، مجھے یہ کام پسند نہیں ، میرے پاس  کام سے متعلق معلومات نہیں  وقت گزرنے کے ساتھ یہ باتیں عادت بن جاتی ہیں جن سے پیچھا چھوڑانا ناممکن ہو جاتا ہےاگر ایسے آدمی کو کوئی نئی نوکری یا کاروبار کا موقع مل جائے تو یہ بغیر سوچے سمجھے انکار کر دیتا ہے ۔ اس بات کو اپنے دماغ سے نکال دیں اگر نا کام ہو گیا تو کیا ہو گا اس بات کو سوچیں اگر کامیاب ہو گیا تو کیا ہو گا زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے نئے آنے والے مواقعے ہاتھ سے مت جانے دیں۔


Post a Comment

0 Comments