ذذہین لوگوں میں پائی جانے والی سات نشانیاں

ذہین لوگوں میں پائی جانے والی سات نشانیاں
ذہین لوگوں میں پائی جانے والی سات نشانیاں

ذہین لوگوں میں پائی جانے والی سات نشانیاں
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں یہ سوچ پائی جاتی ہے جو پڑھائی میں لائق ہوتے ہیں اور اچھے گریڈ لیتے ہیں وہی ذہین  ہیں ۔ اور جو بچے پڑھائی میں کم نمبر حاصل کرتے ہیں ۔ وہ کند ذہن اور نکمے ہوتے ہیں۔جدیدتحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی ہے جو ہم سوچتے ہیں حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب ہم کامیاب لوگوں کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے۔کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سکول کے نام سے بھی گھبراتے تھے ۔جنہوں نے اپنی کلاس میں کبھی ٹا پ نہیں کیالیکن انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر خود کو منوایا اور دنیا آج ان کی کامیابی سے اچھی طرح واقف ہے۔دنیا انہیں جینئیس کہتی ہے۔




کچھ لوگ پیدائشی جینئس ہوتے ہیں اور ان کی ذہنی صلاحیتیں کمال کی ہوتی ہیں۔ان کی صلاحیتیں دوسرے لوگوں سے مختلف ہوتی ہیں لیکن یہ انہیں جان نہیں پاتےہو سکتا ہے آپ بھی ایک ذہین انسان ہوںلیکن آپ سوچتے ہوں میرے تو نمبر ہی اچھے نہیں آتے میں تو کبھی کلاس میں فرسٹ نہیں آیامیں کیسے ایک ذہین بندہ ہو سکتا ہوں۔

یہ ضروری نہیں کہ سو  فیصد نمبر لینے والاہی ذہین ہو بے شمار ذہین لوگوں پر تحقیق کے بعدسائنسدانوں نے ایسی عادتوں اور رویوں کے بارے میں پتہ لگایا ہے۔جو صرف ذہین لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔آج میں آپ لوگوں کو چند ایسی عادات کے بارے میں بتائوں گا جو ذہین لوگوں میں پائی جاتی ہیں ۔اگر یہ عادات یا نشانیاں  آپ میں پائی جاتی ہیں تو آپ بھی ایک ذہین انسان ہیں ۔





سست ہونا
اگر آپ کو کسی مشکل کام کا آسان حل ڈھونڈنا ہے ۔تو وہ کام کرنے کی ڈیوٹی کسی سست آدمی کی لگا دیں آپ کو آسان حل مل جائے گا۔آپ کیلئے اس بات پر یقین کرنا شاید مشکل ہو لیکن جدید تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے ۔جو انسان جسمانی طور پر جتنا سست ہو گااتنا ہی وہ ذہنی طور پر فعال   ہو گا ۔یہ با ت آپ کو معلوم ہو گی ہمارا دماغ ہمارے جسم کو کنٹرول کرتا ہے ۔ ذہین لوگوں کا دماغ ہروقت کسی نہ کسی سوچ میں گم ہوتا ہے۔ جسمانی سرگرمیوں کی طرف ان کا دھیان کم جاتا ہے ۔ذہین لوگ بیٹھ کر غور و فکر کرنا پسند کرتے ہیں۔ غور و فکر کرنے کی عادت کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر فعال اورمضبوط ہوجاتے ہیں۔ ان کا آئی کیو لیول بڑھ جاتا ہے۔اس کے ساتھ وہ جسمانی طور پر سست ہو جاتے ہیں۔

رات کو دیر سے سونے کی عادت
ایک اچھا اور کامیاب دن گزارنے کے لیے اچھی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے ۔جتنی اچھی آپ پلاننگ کریں گےاتنا ہی اچھا آنے والا دن گزرے گا۔لوگوں کے رویوں پر ہونی والی تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے جو لوگ دوسرے لوگوں کی نسبت رات کو دیر سے سوتے ہیں وہ لوگ زیادہ ذہین اور تخلیقی سوچ کے مالک ہوتے ہیں۔ان کی ذہنی صلاحیت دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے ۔کیونکہ وہ سونے سے پہلے تھوڑا وقت آنے والے دن کی منصوبہ بندی کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ان کا دماغ زیادہ مضبوط اور فعال ہوتا ہے ۔یہ لوگ آنے والے مسائل اور رکاوٹوں کوپہلے سے محسوس کر لیتے ہیں۔رات کو تنہائی میں سوچنے کی وجہ سے بہتر حل نکال لیتے ہیں۔

کام کرنے کا جنون
اگر آپ کسی کام کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔تو آپ ایک ذہین آدمی ہیں کیونکہ ذہین لوگوں میں کام پر توجہ دینے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ان کی کوشش ہوتی ہے یہ ہر وقت مصروف رہیں ۔یہ جو کام شروع کرتے ہیں ان کے دماغ میں وہی چلتا رہتا ہے ۔زیادہ سوچنے اور توجہ دینے کی وجہ سے یہ کام کو دوسرے لوگوں کی نسبت بہتر طریقے سے سر انجام دے سکتے ہیں۔




نیلی آنکھیں
دنیا میں سب سے زیادہ پایا جانے والا آنکھوں کا رنگ برائون ہو تا ہے ۔ جو کہ پچاس فیصد سے زیادہ لوگوں کا ہے۔دنیا میں صرف سترہ فیصدلوگوں کی آنکھوں کا رنگ نیلا ہوتا ہے ۔آپ کو یہ بات جان کر حیرت ہو گی آنکھوں پر کی جانے والی تحقیق میں بات ثابت ہوئی ہے جن لوگوں کی آنکھوں کا رنگ نیلا ہوتا ہے وہ لوگ زیادہ  ذہین اور قابل ہوتے ہیں۔ان لوگوں میں غور و فکر کرنے کی صلاحیت دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔سائنسدان ابھی تک اس بات کی کوئی سائنسی منطق  تلاش نہیں کر پائے۔

قدرتی طور پر ذہانت
ذہین لوگ چیزوں کے بارےمیں غور و فکر کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ہمیشہ ان کے ذہن میں سوال گردش کرتے رہتے ہیں۔ان کا چیزوں کو دیکھنے کا انداز عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے ۔ان کے ذہن میں وہ سوال  آتے ہیں جو عام لوگوں کی نظر میں احمقانہ ہوتے ہیں۔لیکن انہیں اپنے سوالوں پریقین ہوتا ہےاور وہ اپنے سوالوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔اگر آپ کو بھی چیزوں کے بارے میں کیا، کیوں اور کیسے کرنے کی عادت ہے اور آپ بہت زیادہ سوا ل پوچھتے ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے یہ ذہین لوگوں کی نشانی ہوتی ہے۔




کم سماجی روابط
اگرآپ لوگوں سے ملنے جلنے سے کتراتے ہیں اوراکیلے رہنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ تو یہ آپ کے ذہین ہونے کی نشانی ہے ۔بے شمار لوگوں پر ہونے والی تحقیق نے یہ با ت ثابت کی ہے جو لوگوں سے کم ملتے جلتے ہیں بہت ذہین ہوتے ہیں۔ان لوگوں کے سوچنے کا اندا ز دوسرے لوگوں سے مختلف ہوتا ہے یہ چیزوں کو الگ اندا ز سے دیکھتے ہیں۔لوگ ان کے خیالات کو سمجھ نہیں پاتے اس لیے یہ لوگوں سے خیالات کم ہی شئیر کرتے ہیں اور اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں۔

انگوٹھے پر آدھے چاند کا نشان
نیلی آنکھوں کی طرح اس بات کی بھی کوئی سائنسی منطق  سامنے نہیں آسکی لیکن لوگوں پر کی جانے والی تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے ۔جن لوگوں کے انگوٹے کےاوپر سفید رنگ کا آدھے چاند کا نشان بنا ہوتا ہےوہ دوسرے لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں۔یہ لوگ چیزوں کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں ایک اور رائے بھی پائی جاتی ہے یہ لوگ لمبی عمر پاتے ہیں۔




Post a Comment

0 Comments