پب جی ویڈیو گیم کے نقصانات pubg game ke nuksan

پب جی ویڈیو گیم کے نقصاناتpubg game ke nuksan 

پب جی ویڈیو گیم کے نقصاناتpubg game ke nuksan

پب جی ویڈیو گیم کے نقصاناتpubg game ke nuksan 
 کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ نے نوجوانوں اور بچوں کے لئے ویڈیو گیمز کو انتہائی سستا اور آسان کر دیا ہے۔اس وقت لاکھوں ویڈیوز گیمز موجود ہیں لیکن واحد پب جی گیم ایسی ہے جس سے ہر کوئی متاثر ہو رہا ہے۔ بچے کیا نو جوان طبقہ بھی دن رات بیشتر وقت اسی گیم کو کھیلنے میں گزار  رہے ہیں۔یہ گیم جہاں تفری کا سامان مہیا کرتی ہیں وہیں یہ  کھیلنے والوں کی صحت  پر نقصان دہ اثرات مرتب کرتی ہے۔



بہت سے ممالک میں پب جی گیم کو بند کر دیا گیا ہے،  وہیں پاکستان میں بھی اس ویڈیو گیم پر پابندی لگانے کا سوچا گیا لیکن لوگوں کی جانب سے بھرپور احتجاج کی وجہ سے   مجبور ہو کر  پاکستان  میں پب جی گیم کو بند کرنے   کے فیصلے کو روک دیا گیا۔

گیمز بنانے والی کمپنی کی جانب سے بتایا گیا ہے، گیم کھیلنے والوں میں خود اعتمادی کی کمی کے ساتھ نفسیاتی مریض بن کر رہ جاتے ہیں ۔پب جی گیم میں گروپ کی شکل میں دوسروں کو قتل کر کے انکی املاک تباہ کر کے ناحق انہیں زدوکوب کر کے لطف اٹھایا جاتا ہے۔مکمل گیم اختتام تک کھیلنے والوں کو ایک فرضی چِکن ڈِنر انعام ملتا ہے۔ بچے اور خاص طور پرنوجوان نسل اس قسم کے ویڈیو گیمزکثرت سے کھیل کر جرائم کے نت نئے طریقے سیکھ لیتے ہیں۔یہ گیمزان کے ذہنوں میں تشدد، مار دھاڑ اور لڑنے جھگڑنے کا   ہنر پیدا کر دیتے ہیں۔ جن سے وہ ویڈیو گیمز کے کھیلنے سے پہلے نہ واقف تھے۔  

پب جی ویڈیو گیم میں موجود مشین کی روشنی سے نکلنے والی شعاعیں کثرت سے گیم کھیلنے والوں میں مرگی کا عارضہ پیدا کر دیتی ہیں ۔اور یہ بھی خبر دار کیا ہے کہ یہ اور اِس جیسے ویڈیو گیم بہت زیادہ کھیلنے سے ہاتھوں میں رعشہ پیدا ہو جاتا ہے۔خبردار کیا گیا  ہے کہ گیمز میں برق رفتاری کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے ہڈیوں اور عضلات کی تکلیف لاحق ہو جاتی ہیں۔



موبائل پرانگلیوں کی مسلسل حرکت کی وجہ سے انگلیوں کو بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے ویڈیو گیمز کھیلتے ہوئے آنکھوں کی حرکت تیز ہو جانے کی وجہ سے آنکھوں پربھی برا اثر پڑتا ہے۔ مقناطیسی لہریں موبائیل اسکرین سے نکلتی رہتی ہیں جسکی وجہ سے آنکھ سرخ اور خشک ہو جاتی ہیں۔

یہ ایسا گیم ہے جِس سے خونریزی اور جرائم کو بڑھاوادیا جا رہا ہے۔گیم کھیلنے والوں کو ایک ایک ہتھیار ،بندوق ،گن کا نام تک یاد ہوجاتا ہے ۔ساتھ ساتھ اِس گیم میں منشیات کا استعمال، تشدد،ماردھاڑ، چھُپ چھپا کر قتل کرنا، گروہوں کے درمیان لڑائی، نا زیبا الفاظ کا استعمال عام بات ہے۔

عام فرد کے لیے ایسے الفاظ جن کو پہلے کبھی سوچنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اب وہ ان گیمز کے ذریعے زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ اور معاشرہ ان کے کثیر استعمال کے باعث انہیں قبول کر کے اپنے اندر ضم بھی کر رہا ہے۔تشدد،ماردھاڑ اور جنگ کے مناظر عام افراد خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر کیا اثرات مرتب کریں گے۔ 

اس سے موبائل اور گیم کمپنیوں کو کوئی سرو کار نہیںاپنے بچوں کو ان چیزوں کے معاشرتی منفی اثرات سے بچانے کے لیےاپنا اپنا کردار ادا کریں۔ تا کہ ہمارا یہ مستقبل محفوظ پروان چڑھ سکے۔ورنہ ایسے موبائل گیمز اور انٹرنیٹ کے سائے میں پروان چڑھنے والی نسل کے لیے ادب، اخلاقیات، انکساری، تحمل،صبر، حیا اور دردمندی جیسے الفاظ عجوبہ بن جائیں گے۔ اور آنے والی نسلیں ان الفاظ کے استعمال پر حیرت سے منہ دیکھیں گی۔ 




Post a Comment

0 Comments