قرآن و احادیث کی روشنی میں تعلیم کی اہمیت

تعلیم کی اہمیت قرآن و احادیث کی روشنی میں
تعلیم کی اہمیت قرآن و احادیث کی روشنی میں



علم کی اہمیت اور اسکی ضرورت
علم کے ذریعے آدمی ایمان و یقین کی دنیا آباد کرتا ہے، بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے، بروں کو اچھا بناتا ہے، دشمن کو دوست بناتا ہے، بے گانوں کو اپنا بناتا ہے اور دنیا میں امن و امان کی فضا پیدا کرتا ہے
قرآنِ مجید میں لگ بھگ پانچ سو مقامات پر حصول تعلیم کی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی۔
علم کی فرضیت کا براہ راست بیان بے شمار احادیث میں بھی آیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ ’’ حصول علم 
تمام مسلمانوں پر (بلا تفریق مرد و زن) فرض ہے
کسی بھی ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کا دارومدار تعلیم پرہی ہوتا ہے،جس ملک و قوم میں تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے وہ ہمیشہ زندگی میں لوگوں پر اور ان کے دلوں پہ راج کیا کرتے ہیں۔ اسلام میں بھی علم کو بہت اہمیت دی گئی ہے،کیونکہ علم کے کمالات میں سے ایک کمال یہ ہے کہ انسان کو جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر علم و آگاہی کی روشنی میں لاتا ہے اور بنی آدم کو شعور و فہم بخشتا ہے، اور انسان کو جب یہ تمیز ہو جاتی ہے تو دیوانہ وار کامیابیوں کی طرف لپکتا ہے
نبی اکرم ﷺ نے فرمایاکہ ’’ جو شخص طلب علم کے لئے کسی راستے پر چلا، اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دیا‘‘۔اور یہ بات واضح کر دی گئی کہ قرآنِ مجید سے حصول علم خواتین کے لئے بھی اسی طرح فرض ہے جیسے مردوں کے لئے ہے اس لئے تعلیم ہر صورت حاصل کرنی چاہیے

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ علم حاصل کی ترغیب دلاتے تھے، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ میں آیا ہے کہ آپ جنگ بدر کے بعد ہر اس اسیرکو جو مدینہ کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاتا تھا آزاد کر دیتے تھے۔ 


 اس عمل سے اسلام اور

پیغمبرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں تعلیم کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے
قرآن کے تقریباً اٹھتر ہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ جو پروردگار عالم نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل فرمایا وہ ’’اِقرَاء’’ ہے، یعنی پڑھیئے، اور قرآن پاک کی چھ ہزار آیتوں میں سب سے پہلے جو پانچ آیتیں نازل فرمائی گئیں
ان سے بھی قلم کی اہمیت اور علم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے
ارشاد ہے:
اس خدا کا نام لے کر پڑھو جس نے پیدا کیا ہے، اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے، پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ہے، اور انسان کو وہ سب کچھ بتادیا ہے جو اسے نہیں معلوم تھا
گویا وحی الٰہی کے آغاز ہی میں جس چیز کی طرف سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کے ذریعے نوعِ بشر کو توجہ دلائی گئی، وہ لکھنا پڑھنا اور تعلیم و تربیت کے جواہر و زیور سے انسانی زندگی کو آراستہ کرنا تھا


Post a Comment

0 Comments