فیس بک بمقابلہ بلاگنگ میرا ذاتی تجربہ | Facebook vs Blogging My Personal Experience

فیس بک بمقابلہ بلاگنگ میرا ذاتی تجربہ|  Facebook vs Blogging My Personal Experience

فیس بک بمقابلہ بلاگنگ میرا ذاتی تجربہ|  Facebook vs Blogging My Personal Experience

فیس بک بمقابلہ بلاگنگ میرا ذاتی تجربہ Facebook vs Blogging My Personal Experience

سال 2014 میں ریگولر فیس بک استعمال کرنا شروع کی اور اب تک کر رہا ہوں، سال 2018 میں معلوم ہوا کہ بلاگ نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے جس سے پیسے بھی کمائے جا سکتے ہیں،

سال 2018 کے اختتام پر میں نے بھی اپنا پہلا بلاگ بنا دیا اب مسئلہ یہ تھا کہ میں فیس بک پر بھی لکھتا رہوں یا پھر بلاگ پر آرٹیکل لکھوں۔۔۔

مجھے کچھ خاص لکھنا بھی نہیں آتا تھا بلآخر میں نے فیصلہ کیا کہ زیادہ وقت اپنے بلاگ کو دوں گا، فیس بک کو صرف بطور تفریح استعمال کروں گا،

یہ سلسلہ چلتا رہا اور جنوری 2021 میں میرا فیس بک اکاؤنٹ فیس بک کی جانب سے ڈلیٹ کر دیا گیا، اپریل تک فیس بک کی جانب سے میرے چار فیس بک اکاؤنٹس ڈلیٹ ہوئے،میں اکاؤنٹس بناتا رہا اور فیس بک والے ڈلیٹ کرتے رہے۔

ہزاروں فرینڈز اور فالورز چند منٹوں میں غائب ہو گئے شاید یہ ہی دنیا کی حقیقت ہے، اس کے ساتھ ساتھ فیس بک پر لکھی گئی میری پوسٹ اور آرٹیکل بھی ڈلیٹ کر دئیے گئے،

آج میں سوچتا ہوں بلاگ کو سیریس لینا میرا ایک اچھا فیصلہ تھا اب میرے چار بلاگ ہیں اور میں ان سے پیسے بھی کما رہا ہوں،

رہی فیس بک کی بات تو فیس بک کو میں نے سیریس لینا پہلے ہی چھوڑ دیا تھا،جب سےچار اکاؤنٹس ڈلیٹ ہوئے ہیں اب تو میرے لیے یہ کسی سٹیج ڈرامے کی جگت سے کم نہیں ہے،

لکھاری دوستوں کو میں یہی مشورہ دوں گا کہ اگر آپ فیس بک پر لکھتے ہیں تو اس کی مثال ایسے ہے کہ آپ ساحل سمندر پر لکھ رہے ہیں نا جانے کب کوئی لہر آئے گی اور سب کچھ بہا کر لے جائے گی اس لیے اپنی محنت کو ضائع ہونے سے بچائیں اور اپنا بلاگ بنا لیں، فائدے میں رہیں گے۔

بلاگ کیا ہے اور بلاگنگ کام کیسے کرتی ہے؟

فیس بک اور بلاگنگ کے ساتھ ہونے والا ذاتی تجربہ فیس بک پر شئیر کیا کافی دوستوں نے کمنٹس کیے اور دلچسپی کا اظہار کیا سوچا ایک اور پوسٹ لکھ دیتا ہوں،

اب بات کر لی جائے کہ بلاگ کیا ہوتا ہے؟ بلاگ میں آپ کو کسی ایک یا مخصوص موضوعات پر پوسٹ یا آرٹیکل لکھنا ہوتا ہے، ہمیں جب بھی کچھ سرچ کرنا ہوتا ہے تو ہم گوگل پر جا کر سرچ کرتے ہیں جب گوگل پر کچھ سرچ کیا جاتا ہے تو گوگل ہمیں سرچ رزلٹ دیکھاتا ہے یہ سرچ رزلٹ مختلف ویب سائیٹس یا بلاگز کے ہوتے ہیں، اس کے علاؤہ گوگل کچھ ویڈیوز بھی دیکھاتا ہے جو یوٹیوب کی ہوتی ہیں،

اب گوگل کو سرچ کے حساب سے جو رزلٹ سب سے بہتر لگتا ہے اسے وہ سب سے پہلے رکھتا ہے مثال کے طور پر آپ گوگل پر سرچ کرتے ہیں

کاروبار کیسے کریں

آن لائن پیسے کیسے کمائیں وغیرہ

آپ کچھ اور بھی سرچ کر کے دیکھ سکتے ہیں

اب جو رزلٹ آپ کے سامنے آئیں گے وہ ویب سائیٹس یا بلاگز کے ہوں گے بلاگ یا ویب سائیٹ میں تھوڑا سا فرق ہوتا ہے وہ یہ کہ بلاگ پر چند مخصوص موضوعات پر لکھا جاتا ہے اور ویب سائیٹ پر آپ کو وسیع مواد ملتا ہے،

اب ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی ہمیں گوگل پر اردو میں کچھ سرچ کرنا ہوتا ہے تو یا تو ہم ٹائیٹل انگلش میں لکھ کر ساتھ اردو لکھ دیتے ہیں.

How to make money online in urdu

یا پھر رومن اردو میں ٹائٹل لکھ کر گوگل پر سرچ کرتے ہیں

Online paise kaise kamaye

اس سے کیا ہوتا ہے کہ گوگل ہمیں اردو رزلٹ نہیں دیکھا سکتا.

اگر آپ کو اردو میں گوگل پر کچھ سرچ کرنا ہے تو آپ کو اردو میں ہی لکھنا ہے جیسا کہ میں اوپر دیا گیا ٹائٹل اردو میں لکھتا ہوں،

آن لائن پیسے کیسے کمائیں

اب یہاں پر میں آپ کو ایک اور بات بتا دوں ضروری نہیں کہ بلاگ انگلش میں ہی ہو یا پھر آپ انگلش میں آرٹیکل لکھنا جانتے ہوں تب ہی آپ بلاگ بنا سکتے ہیں،

آپ اردو میں بھی بلاگ بنا سکتے ہیں اور رومن اردو میں بھی، پاکستان میں بہت کم لوگ رومن اردو میں لکھتے ہیں اس لیے گوگل کے پہلے پیج پر انڈین بلاگز کے رزلٹ زیادہ ہوتے ہیں ہم جس کو رومن اردو کہتے ہیں وہ ہنگلش کہتے ہیں،

اور یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ اردو اور ہندی بولنے میں تھوڑی مختلف ہے،اور اگر ہم اردو میں کچھ سرچ کرتے ہیں تو زیادہ تر نیوز ویب سائیٹس کے رزلٹ سامنے آتے ہیں، اگر اردو میں یا رومن اردو میں بلاگ بنایا جائے تو گوگل اس بلاگ کو سرچ رزلٹ میں ضرور دیکھائے گا،

اگر آپ کم سے کم دو سو سے تین سو الفاظ خود سے لکھ سکتے ہیں تو آپ اپنا بلاگ بنا سکتے ہیں۔

فیس بک پر لکھنے والے کے اگر چند ہزار فالورز ہو جائیں تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اب فالورز سے فائدہ اٹھایا جائے، تو فائدہ کس طرح حاصل کیا جاتا ہے یا تو کوئی پروڈکٹ (شہد، کپڑے، جوتے، کتاب) سیل کرنا شروع کر دی جاتی ہے یا پھر کوئی پیڈ سروس (فری لانسنگ، ڈیزائننگ، پیڈکورس) دینا شروع کر دی جاتی ہے،

کچھ لوگ تو باقاعدہ فیس بک پر اپنے برینڈ بنا لیتے ہیں، ہر بندہ اپنے فائدے کا سوچ سکتا ہے، چند لوگ ہو سکتے ہیں جو صرف دوسروں کی مدد کرنا چاہتے ہوں،

یہاں مجھےپاکستانی ڈرامے کا کلپ یاد آ گیا جس میں ایک بوڑھے شخص کو اس کا نواسہ کہتا ہے کہ مجھے دس لاکھ چاہیں، بوڑھا شخص پوچھتا ہے کہ پورے دس لاکھ چاہیں؟ کیوں چاہیے تو نواسہ کہتا ہے کہ مجھے ضرورت ہیں اور میں وجہ نہیں بتا سکتا جس پر بوڑھا شخص کہتا ہے تمہاری جیسی شکل والے کو کوئی فری میں تھپڑ نہ مارے تم دس لاکھ مانگ رہے ہو۔۔۔مزاق تھا سیریس مت لیں

پچھلے دنوں مجھے اردو بلاگینگ کی ہسٹری پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کو ایک بھائی نے بڑی محنت اور ریسرچ کے بعد لکھا تھا جس کے مطابق پہلا اردو بلاگ 2002 میں بنایا گیا تھا،

مجھے کافی حیرت ہوئی کیونکہ گوگل ایڈسینس کی جانب سے اردو بلاگ کو اپروول 2017 میں ملنا  شروع ہوئی اب جو اردو بلاگنگ کرتے تھے وہ کماتے کہاں سے ہوں گے؟

شاید ان کے دو مقصد ہو سکتے تھے مشہور ہونا، اردو زبان سے پیار شاید انہی لوگوں نے انٹرنیٹ پر اردو زبان کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور مجبوراً گوگل ایڈسینس کو اردو زبان کو بھی اپنے پارٹنر پروگرام میں شامل کرنا پڑا۔

اگر اب بھی کوئی بلاگنگ کرتا ہے تو وہ اردو سے پیار، محبت کی وجہ سے بھی کر سکتا ہے، شہرت حاصل کرنے کے لیے کر سکتا ہے اور پیسے تو پھر کمانے ہی ہیں،

اگر آپ بلاگنگ کرنا چاہتے ہیں تو شروعات میں پیسوں کا نہ سوچیں کام پر دھیان دیں،جب بلاگ بن جائے گا اور مشہور ہو جائے گا تو پیسے کمانے کے کافی طریقے ہیں جیسا کہ

ایڈز نیٹ ورکس جیسا کہ گوگل ایڈسینس وغیرہ

افلیٹ مارکیٹنگ جیسا کہ ایمازون افلیٹ

اپنی کوئی پروڈکٹ یا سروس بھی سیل کی جا سکتی ہے

انشاءاللہ ایمازون پاکستان آئے گی اور پاکستانی لوگ ایمازون افلیٹ سے بھی اچھے پیسے کمائیں گے اور یہ بھی امید رکھیں فیس بک کی مونیٹائزیشن پاکستان میں جلد آن ہو گی،

بلاگ بنانے کیلئے دو پلیٹ فارم بہت مشہور ہیں بلاگر اور ورڈ پریس اب اگر آپ بلاگ بنانا چاہتے ہیں تو آپ بلاگر پر بھی بلاگ بنا سکتے ہیں اور ورڈ پریس پر بھی بلاگ بنا سکتے ہیں، بلاگر گوگل کا پروڈکٹ ہے جو بالکل فری ہے اگر آپ اس بلاگ کو تھوڑا بہتر بنانا چاہیں تو ایک ڈومین خرید کر اس کو اپنے بلاگ کے ساٹھ اٹیچ کر سکتے ہیں،

ورڈ پریس پر بلاگ بنانے کیلئے آپ کو ہوسٹنگ اور ڈومین کی ضرورت ہوتی اور آپ کے پاس ٹیکنیکل نالج ہونا ضروری ہے، باقی چیزین ٹیکنیکل ہیں وہ یہاں سمجھائی نہیں جا سکتی،

بلاگر پر بلاگ بنانا ایسے ہی ہے جیسے آپ فیس بک پیج بنا رہے ہوں میرا نئے لوگوں کو یہی مشورہ ہے کہ آپ شروعات بلاگر سے کریں اور جب تھوڑی سمجھ جائے تو ورڈ پریس پر بلاگ بنا لیں نہیں تو کسی اور سے بنوا لیں،

اگر مزید تفصیل میں لکھوں تو بہت کچھ لکھ سکتا ہوں، اب آگے ٹیکنیکل باتیں ہیں آپ ان چیزوں کے بارے میں مزید گوگل پر سرچ کر سکتے ہیں یا پھر یوٹیوب پر سرچ کر سکتے ہیں، اس کے علاؤہ آپ مجھے انبکس بھی کر سکتے ہیں جہاں تک ممکن ہوا میں آپ کی مدد کرنے کی کوشش کروں گا۔

 

   

Leave a Comment